قسط نمبر 18 میں مہرین کا سامان لینے جانے پر اسود کو پتہ چلتا ہے کہ مہرین نہ صرف نانی کے سارے کام کرتی تھی بلکہ پڑھاٸ میں بھی بہت آگے تھی۔ مشعال اس کی جلن میں اس کے سارے سرٹیفیکےٹس کو اپنا کہ کر اسود کے سامنے نمبر بنانے کی کوشش کرتی تھی۔ نہ صرف وہ سگریٹ پیتی تھی بلکہ نیند کی گولیوں کی بھی عادی تھی۔
اور اس نے خود کشی نہیں کی تھی بلکہ پہلے مہرین کے کھانے میں اور پھر اس کی چاۓ میں نیند کی گولیاں ڈال کر اسے مارنے کی کوششکی تھی۔
لیکن اللہ کا قانون ھے کہ جو دوسروں کے لیے گھڑا کھودتا ہے وہ خود ضرور اس میں گرتا ہے۔
بہر حال مہرین کے ذہنی مریض بننے کے بعد آخر کار اسود کو اس کے بے گناہ ہونے کا پتہ چل گیا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں